!آتشک اور سوزاک کا علاج مکمل رازداری سے
پوشیدہ بیماریوں کا کامیاب علاج، سو برس پرانا قدیمی نسخہ۔ سندربن اور ہما لیہ سے لائی گئی جڑی بوٹیاں۔ مکمل رازداری۔ آتشک اور سوزاک کے پرانے مریض ایک بار ضرور آزمائیں
پوشیدہ بیماریوں کا کامیاب علاج، سو برس پرانا قدیمی نسخہ۔ سندربن اور ہما لیہ سے لائی گئی جڑی بوٹیاں۔ مکمل رازداری۔ آتشک اور سوزاک کے پرانے مریض ایک بار ضرور آزمائیں
سکول کے ہر گروپ میں ہر دل عزیز، محلے کے سب گھروں میں دوستی، غیر نصابی سرگرمیوں کے لیے دوسرے سکولوں میں آمدورفت، وی سی آر پہ فلم دیکھنے کے شائقین کے درمیان ہم موجود، رشتے داروں کے گھر اماں کے ساتھ جانے کو ہم تیار، محرم کی مجلسوں میں ہم آگے آگے، نیاز اور معجزے پڑھنے کی محفلوں کے متحرک ممبر۔ سو آپ ہی بتائیے جب اتنے بے شمار سروں سے ہر وقت کا میل ہو گا تو جوں چڑھ ہی جائے گی نا سر میں۔ آخر محترمہ جوں کو بھی شوق ہو سکتا ہے نت نئی جگہیں پھرنے کا اور اگر سیر گھنے جنگلات کی ہو تو کیا ہی کہنے!
دیہی علاقوں میں کام کرنے کا موقع ملا تو وہاں کے عام انسان کی زندگی کیڑے مکوڑوں کی طرح پائی جنہیں کوئی بھی کبھی بھی مسل دیتا ہے۔ حکومتی سطح پر ان لوگوں کے لیے چھوٹے موٹے اسپتال بنا کر سمجھ لیا جاتا ہے کہ ذمہ داری ختم ہوئی۔ تب چاندی ہوتی ہے ان لوگوں کی جو وہاں پرائیویٹ اسپتال کھول کر دھندا کرتے ہیں۔ افسوس کی بات ہے لیکن ڈاکٹر بھی اس بھیانک نظام کا حصہ بن جاتے ہیں۔ ایم بی بی ایس کی ڈگری کے بعد پرائیویٹ اسپتال چلانا ایسا ہی ہے جیسے کسی بس ڈرائیور کو جہاز اڑانے کی اجازت دے دی جائے۔
کیسے بنیں ذاتیں اور کس نے بنائیں؟ آدم و حوا کی اولاد جب زمین پہ پھیلی، برادریاں اور نظام بنے، طاقت، اختیار اور ملکیت کے معنی سمجھ میں آئے تو کچھ تو چاہیے تھا نا کنٹرول کے لیے۔ چاہے ایک قبیلہ مسلط ہوتا دوسرے پہ، ایک گروہ زیر کرتا کئی گروہوں کو، اونچی ذات نچلے درجے کی ذاتوں کو اور شاہی خاندان راج کرتا کمی کمینوں پہ۔
لیکن شولڈر ڈسٹوشیا کا مسئلہ یہ ہے کہ سر تو آرام سے نکل آئے گا اور پھنس جائیں گے کندھے۔ اس کا مطلب یہ کہ یا تو کندھے بہت چوڑے تھے یا بچے کا جسم پیٹ میں گھوم کر کندھوں کو درست پوزیشن میں نہیں لا سکا۔
کندھے بڑے ہونے کا ایک رسک فیکٹر ماں کو ذیابیطس ہونا ہے۔ ذیابیطس کے ساتھ اگر بچہ وزن میں چار کلو سے اوپر ہو جائے تو مناسب نہیں کہ نارمل ڈلیوری کروائی جائے۔
کھینچو اور کھینچو۔
بی بی زور لگاؤ، منہ بند کر کے، نیچے کی طرف۔
پیٹ کو اوپر سے دباؤ۔
مثانے والی جگہ بھی دباؤ۔
دیکھو اگر کندھے نہیں ہل رہے تو بازو نکالنے کی کوشش کرو۔
کھینچو، زور سے کھینچو۔
اگر بازو ٹوٹ جائے تو خیر ہے لیکن بچہ باہر نکلنا چاہیے۔
کندھے بڑے ہونے کا ایک رسک فیکٹر ماں کو ذیابیطس ہونا ہے۔ ذیابیطس کے ساتھ اگر بچہ وزن میں چار کلو سے اوپر ہو جائے تو مناسب نہیں کہ نارمل ڈلیوری کروائی جائے۔
تصویر نے معاشرے کی وہ تصویر دکھائی جس کا سامنا ہر طبقے کی عورت کو ہے۔ وہ سارہ انعام ہو، نور مقدم ہو یا شہلا شاہ۔ وہ سب جن سے کسی نہ کسی مرد نے زندگی چھین لی۔ کبھی غیرت کے نام پہ، کبھی عزت کی خاطر، کبھی غصے میں پاگل ہو کر اور کبھی طاقت کے نشے میں دیوانہ بن کر۔
ہاہاہا، ہمارے قہقہے تھے کہ بچوں کو ڈراتے تھے، برگد سے کووں کو اڑاتے تھے اور کچھ لوگوں کے ماتھے پہ شکنیں گہری کرتے تھے۔
سوچیے اگر یہ آپ کی اماں ہوں، اسی برس عمر ہو اور ایک دن ٹوائلٹ سے نکل کر یہ رام کتھا انہی الفاظ میں ایسے ہی سنائیں تو سر گھومے گا نا آپ کا ۔ عجیب ہونق محسوس کریں گے خود کو ، سمجھ کچھ آئے گا نہیں کہ بیٹھے بٹھائے اسی برس کی اماں کو کیا نکل آیا؟ اور کہاں پہ؟
مریضہ کا پہلا حمل، دوسرے مہینے سے ہسپتال آنا شروع کیا۔ ہر مہینے باقاعدگی سے چیک کروایا۔ کہیں کچھ بھی غلط نہیں تھا۔ ڈاکٹر تسلی دیتے رہے۔ نو ماہ گزرے۔ تاریخ کے قریب پہنچ کر درد زہ شروع ہوئے۔ وقت ضائع نہیں کیا، فوراً ہسپتال پہنچے۔ سب کو بہت تشویش تھی لیکن ڈاکٹر نے تسلی دی کہ سب ٹھیک ہے۔ درد برداشت کی آٹھ گھنٹے تک، آخر بچے دانی کا منہ پورا کھل گیا۔ پھر نرس نے بتایا کہ زور لگاؤ۔ ہر درد کے ساتھ پورا زور لگایا، ہلکان ہو گئی۔ تین گھنٹے گزر گئے۔ ڈاکٹر نے کہا کہ بچے کو اوزار لگا کر نکالنا پڑے گا۔ اوزار لگا کر کھینچا، ایک بار، دو بار۔ کچھ بھی نہیں ہوا اور آخرکار آپریشن تھیٹر لے جا کر سیزیرین کر دیا۔
ان اعضا کے ناموں کا استعمال جو کچھ کے لیے شہوت انگیز، کچھ کے لیے منہ سے نہ صرف گرتی رال بلکہ ہر جسم کو محض جنسی آلہ سمجھ کر ”گل افشانی“ کا سبب بھی بن سکتا ہے لیکن اگر مذکورہ حال میں ان اعضا کی ایک جھلک انہیں دکھا دی جائے تو؟ کیا ان مٹی ہوتے جسموں سے بھی وہ اسی طرح حظ اٹھائیں گے؟